پیدائش ۲ — عدن، کام اور ازدواجی رشتہ
ساتویں دن کے آرام سے باغِ عدن، انسان کی خدمت اور عورت کی تخلیق تک تفصیلی مطالعہ۔
ترجموں کے حقوق کا لحاظ رکھتے ہوئے مکمل باب نقل کرنے کے بجائے آیات کے حوالے اور اصل تشریح دی گئی ہے۔ اپنی بائبل ساتھ کھول کر پڑھیں۔
آیت ۱–۷: آرام اور مٹی
شابات کا مطلب تخلیق کے کام سے رکنا ہے، خدا کا تھک جانا نہیں۔ تولدوت نئے بیان کا آغاز کرتا ہے۔ کھیت کے پودوں کا ذکر بارش اور کھیتی کرنے والے کی عدم موجودگی سے جڑا ہے؛ اسے تمام پودوں کی نفی نہیں سمجھنا چاہیے۔
آدم اور ادمہ کی آواز میں انسان اور زمین کا تعلق جھلکتا ہے۔ نفش حیا زندہ انسان ہے، نہ کہ جسم میں داخل کی جانے والی ایک الگ چیز۔
آیت ۸–۱۴: درخت اور چار دریا
عدن ایک وسیع علاقہ اور باغ اس کے اندر ہو سکتا ہے۔ زندگی کا درخت خدا سے ملنے والی زندگی کی طرف اشارہ کرتا ہے؛ بھلے برے کے علم کے درخت کی ممانعت عام تعلیم یا ازدواجی قربت کی ممانعت نہیں۔
فیشون اور جیحون کا موجودہ مقام یقینی نہیں۔ حداقل کو دجلہ اور فرات کو فرات سے منسوب کرنا معروف ہے، مگر اس سے باغ کی قطعی جگہ ثابت نہیں ہوتی۔
آیت ۱۵–۱۷: کام اور حدود
عابد کا تعلق کام اور خدمت سے، شمر کا حفاظت سے ہے۔ گناہ سے پہلے بھی کام اچھی ذمہ داری تھا۔ خدا نے بہت سے درختوں سے کھانے کی آزادی دی اور ایک درخت سے منع کیا۔
موت تموت کا زور موت کے یقینی ہونے پر ہے، نہ کہ لفظی معنی 'آہستہ آہستہ بوڑھے ہو جانا'۔ نافرمانی کے ساتھ موت کا حکم اور تعلق کی شکست شروع ہوئی؛ جسمانی موت بعد میں آئی۔
آیت ۱۸–۲۵: موزوں مددگار
عزر کنگدو ایسا مددگار ہے جو انسان کے مقابل مناسب رفاقت دے۔ عزر خدا کی مدد کے لیے بھی استعمال ہوا ہے؛ اس سے عورت کی کمتر حیثیت ثابت نہیں ہوتی۔ کنوارے رہنے والے انسان کو بھی نامکمل نہیں کہا گیا۔
تسیلا پہلو یا پسلی ہو سکتا ہے مگر تشریح کے لیے باریک جسمانی تفصیل موجود نہیں۔ 'ایک جسم' میں جسمانی ملاپ، خاندان اور وفاداری شامل ہیں؛ یسوع نے متی ۱۹ میں اس کا حوالہ دیا۔
آزادی، کام اور رشتہ خدا کی عطا ہیں، جن کے ساتھ اطاعت اور دوسروں کے احترام کی ذمہ داری جڑی ہے۔
غور و فکر کے سوالات
یہ سوالات غور و فکر کے لیے ہیں، مصنف کی گھڑی ہوئی ذاتی گواہی نہیں۔
01ایک دوسرے کا موزوں مددگار بننے کا کیا مطلب ہے؟
حوالہ جات
عبرانی الفاظ، سیاق اور مختلف تفاسیر کی جانچ کے لیے یہ حوالہ جات دیے گئے ہیں۔
01Genesis 2 — Masoretic Hebrew text (Mechon-Mamre)02Genesis 2:18–25 — NET Bible translation and grammar notes03Victor P. Hamilton, The Book of Genesis: Chapters 1–1704Kenneth A. Mathews, Genesis 1–11:2605Hebrew verbal emphasis — Infinitive absolute