پیدائش ۱:۱–۱۰ — ابتدا، روشنی اور ترتیب
ان آیات میں خدا کے حکم سے روشنی، پانی کے حصے اور خشک زمین ظاہر ہونے کا بیان ملتا ہے۔
ترجموں کے حقوق کا لحاظ رکھتے ہوئے مکمل باب نقل کرنے کے بجائے آیات کے حوالے اور اصل تشریح دی گئی ہے۔ اپنی بائبل ساتھ کھول کر پڑھیں۔
آیت ۱–۲: ابتدا اور بے ترتیبی
بریشیت ابتدا کو ظاہر کرتا ہے اور بارا خدا کے تخلیقی عمل کا لفظ ہے۔ ماہرین اس پر بحث کرتے ہیں کہ پہلا جملہ مستقل بیان ہے یا 'جب خدا نے خلق کرنا شروع کیا' سے متعلق زمانی فقرہ۔ روایتی ترجمہ اہم بنیاد رکھتا ہے۔
الوہیم کی ظاہری شکل جمع جیسی ہے مگر اس کے ساتھ فعل واحد آیا ہے۔ اس سے کئی خالق دیوتاؤں کا ثبوت نہیں ملتا۔ توہو وا بوہو ایسی کیفیت ہے جو ابھی زندگی کے لیے منظم نہیں ہوئی، نہ کہ شیطان کے ہاتھوں پہلے عالم کی تباہی کا بیان۔
آیت ۳–۵: روشنی پیدا ہو
روشنی کا حکم اور اس کا ظاہر ہونا ایک دوسرے کے فوراً بعد آیا ہے۔ سورج اور چاند کا واضح ذکر چوتھے دن ہے، اس لیے پہلی روشنی کا سائنسی منبع یہاں مقرر نہیں کیا گیا۔
طوب یعنی 'اچھا' خالق کا مثبت فیصلہ ہے؛ یہاں تاریکی کو بذاتِ خود اخلاقی برائی نہیں کہا گیا۔ یوم کے استعمالات مختلف ہیں اور دن کی طوالت کے سوال میں پورا سیاق دیکھنا ضروری ہے۔
آیت ۶–۱۰: آسمان اور خشک زمین
راقیع کو فلک یا آسمان کی وسعت کہا جاتا ہے۔ قدیم کائناتی تصور کے متعلق اختلاف موجود ہے، مگر مرکزی واقعہ پانیوں کی تقسیم ہے۔
مسوری عبرانی متن میں دوسرے دن 'اچھا تھا' نہیں آتا جبکہ بعض یونانی نسخوں میں ملتا ہے۔ اس بنا پر دن کو برا قرار نہیں دے سکتے۔ پانی جمع ہوا اور خشک زمین ظاہر ہوئی۔
اصل زور خدا کے کلام اور اس کی قائم کردہ اچھی ترتیب پر ہے، نہ کہ جدید ارضیات کی مکمل تاریخ پر۔
غور و فکر کے سوالات
یہ سوالات غور و فکر کے لیے ہیں، مصنف کی گھڑی ہوئی ذاتی گواہی نہیں۔
01کن باتوں کو عبارت واضح طور پر بیان کرتی ہے؟
حوالہ جات
عبرانی الفاظ، سیاق اور مختلف تفاسیر کی جانچ کے لیے یہ حوالہ جات دیے گئے ہیں۔
01Genesis 1 — Masoretic Hebrew text (Mechon-Mamre)02Genesis 1 — NET Bible textual and translation notes03Gordon J. Wenham, Genesis 1–15 (Word Biblical Commentary)04BibleProject — Book of Genesis